Monday, 10 January 2022

سینے پہ کتنے داغ لیے پھر رہا ہوں میں

 سینے پہ کتنے داغ لیے پھر رہا ہوں میں 

زخموں کا ایک باغ لیے پھر رہا ہوں میں 

ڈر ہے کہ تیرگی میں قدم ڈگمگا نہ جائے 

اک شہر بے چراغ لیے پھر رہا ہوں میں 

ساقی! نہ پوچھ آج کے شیشہ گروں کا حال 

ٹوٹا ہوا ایاغ لیے پھر رہا ہوں میں 

کیا جانے کس کے نام ہے یہ نامۂ کرم 

ملتا نہیں سراغ لیے پھر رہا ہوں میں 

پوچھے نہ جس کو حال نہ مستقبل حسیں 

ماضی کا وہ دماغ لیے پھر رہا ہوں میں 

نیر ہو ایسے دور میں کیا روشنی کی بات 

بِن تیل کا چراغ لیے پھر رہا ہوں میں 


نیر سلطانپوری

No comments:

Post a Comment