کل کو شاید یہ گفتگو نہ رہے
میں تِری اور میرا تُو نہ رہے
ہم بھی چپ چاپ سے جلے جاناں
تیرے چرچے بھی کو بکو نہ رہے
منزلو! اس طرح ستاؤ ہمیں
تم کو پانے کی جستجو نہ رہے
تجھ سے شکوہ فقط جفا کا ہے
کل کو شاید یہ تیری خُو نہ رہے
عشق میں ایسی کیفیت چاہوں
جب رہو دل میں تم، لہو نہ رہے
اب حرا! اس طرح ملیں گے اسے
پھر سے ملنے کی آرزو نہ رہے
حرا رانا
No comments:
Post a Comment