Friday, 4 June 2021

ہم جو پہلے کہیں ملے ہوتے

 ہم جو پہلے کہیں ملے ہوتے

اور ہی اپنے سلسلے ہوتے

پھر ہر اک بات ٹھیک سے ہوتی

پھر نہ الجھن نہ فاصلے ہوتے

پھر نہ تنہائی رات کو ڈستی

پھر نہ قسمت سے یہ گلے ہوتے

پھر نہ لگتا یہ شہر اک صحرا

پھر نہ گم دل کے قافلے ہوتے

پھر غزل ہوتی سب زبانوں پر

پھر کسی کے نہ لب سلے ہوتے

پھر ہر اک لمحہ گنگنا اٹھتا

پھر ہر اک سمت گل کھلے ہوتے


سلمان اختر

No comments:

Post a Comment