رہائش کیا بتاؤں اس پری کی
گلی ہو تو نشانی ہو گلی کی
نظر جاتی ہے گھنٹے بعد مجھ پر
میں چھوٹی سُوئی ہوں اس کی گھڑی کی
پذیرائی تو پھر بھی پھُول کی ہے
اگر تعریف ہو اک پنکھڑی کی
مجھے کیا اب تُو جتنا جگمگائے
ضرورت ہی نہیں جب روشنی کی
محبت کی ہے؛ نوکر تو نہیں ہوں
حدِ برداشت ہوتی ہے کسی کی
پارس مزاری
No comments:
Post a Comment