Friday, 4 June 2021

رہائش کیا بتاؤں اس پری کی

 رہائش کیا بتاؤں اس پری کی

گلی ہو تو نشانی ہو گلی کی

نظر جاتی ہے گھنٹے بعد مجھ پر

میں چھوٹی سُوئی ہوں اس کی گھڑی کی

پذیرائی تو پھر بھی پھُول کی ہے

اگر تعریف ہو اک پنکھڑی کی

مجھے کیا اب تُو جتنا جگمگائے

ضرورت ہی نہیں جب روشنی کی

محبت کی ہے؛ نوکر تو نہیں ہوں

حدِ برداشت ہوتی ہے کسی کی


پارس مزاری

No comments:

Post a Comment