Sunday, 6 June 2021

یہ تمنا ہے کہ اب اور تمنا نہ کریں

 یہ تمنا ہے کہ اب اور تمنا نہ کریں

شعر کہتے رہیں چپ چاپ تقاضا نہ کریں

ان بدلتے ہوئے حالات میں بہتر ہے یہی

آئینہ دیکھیں تو خود اپنے کو ڈھونڈا نہ کریں

تُو گریزاں رہی اے زندگی ہم سے لیکن

کیسے ممکن ہے کہ ہم بھی تجھے چاہا نہ کریں

اس نئے دور کے لوگوں سے یہ کہہ دے کوئی

دل کے دُکھڑوں کا سر عام تماشا نہ کریں


سلمان اختر

No comments:

Post a Comment