ایک ماں کی نظم ماں کے لیے
میں اپنی ماں کی ممتا
آج بھی جب یاد کرتی ہوں
تو امیدوں امنگوں کے
ہزاروں دیپ جلتے ہیں
مِری ماں کی دعائیں سایہ بن کر
اب بھی میرے ساتھ رہتی ہیں
اندھیری رات میں
بھیگی ہوئی جب چاندنی چمکے
تو اس کا روپ بنتا ہے
وہ جس کے گرد تبسم کا
مقدس ایک ہالہ تھا
تکلّم شان والا تھا
تدبر، تمکنت، تعظیم اور تعمیل
سب اس کا حوالہ تھا
جو اس کی بزم میں بیٹھو
تو لگتا تھا
کہ جیون ایک دریا ہے
جہاں اٹھتی بکھرتی موج کی
پرواہ نہیں ہوتی
اسی کے مہر سے اب بھی
ہمارے دل منور ہیں
ہماری سوچ ارفع ہے
شفیق اتنی کہ شفقت کی
کوئی حد ہی نہیں ملتی
اسی شفقت کے سائے کو
جہاں آرا ترستی ہے
جہاں آرا تبسم
اپنے بچوں کو
زمانے کے تھپیڑوں سے بچاتی ہے
تو اس لمحے
اسے بھی ماں کی ممتا یاد آتی ہے
کبھی جب تندئ بادِ مخالف
جیت جاتی ہے
تو وہ سب کی نظر سے چھپ کے
ماں کو یاد کرتی ہے
سسکتی ہے، بلکتی ہے
خیالوں ہی خیالوں میں
وہ ماں کی گود میں
سر رکھ کے کہتی ہے
مِری ماں
میں بھی اک ماں ہوں
مگر پھر بھی
مجھے تیری
بس اک تیری
کمی محسوس ہوتی ہے
جہاں آرا تبسم
No comments:
Post a Comment