نہیں ہے تجھ کو ضرورت تو جا نہیں دوں گا
میں اب کی بار تجھے مشورہ نہیں دوں گا
وہ رو رہا ہے کسی اور کے لیے، سو اسے
گلے لگاؤں گا، پر حوصلہ نہیں دوں گا
مِرے رقیب تڑپتے رہیں گے زندگی بھر
تجھے بچھڑنے کی کوئی وجہ نہیں دوں گا
کہیں یہ ریت تجھے مجھ سے بدگماں نہ کرے
تجھے بناؤں گا، پر آئینہ نہیں دوں گا
میں ایسے پھیل کے بیٹھوں گا تیری محفل میں
تِرے قریب کسی کو جگہ نہیں دوں گا
علی ارتضیٰ
No comments:
Post a Comment