Sunday, 6 June 2021

خود سے لڑنا تھا بہت بار خفا ہونا تھا

 خود سے لڑنا تھا بہت بار خفا ہونا تھا

اپنی تقدیر سے خوش ہوں کہ نیا ہونا تھا

رب نے اچھا ہے تجھے پہلے دِکھا دی دنیا

بعد میں جا کے زیادہ ہی گِلہ ہونا تھا

اس کے ہونے سے تِرا دھیان بھٹک جاتا ہے

وہ نہ ہوتا تو تِرے ساتھ خدا ہونا تھا

اب کہ حیرانی نہیں ہوتی مجھے دنیا پر

چل کے دو چار قدم سب نے جُدا ہونا تھا

جادوئی زخم تھا ایسے کہاں کھلنا تھا اسے

جل پری ہاتھ لگاتی تو ہرا ہونا تھا

سب کو ہو جانا تھا معلوم خوشی کا مطلب

اپنے زِندان سے جب ہم نے رہا ہونا تھا


تجدید قیصر

No comments:

Post a Comment