Sunday, 6 June 2021

رکھا بھی کسی نے تھا پکارا بھی کسی نے

 رکھا بھی کسی نے تھا پکارا بھی کسی نے

اس نام کا ہر قرض اُتارا بھی کسی نے

ہر سانس لُٹائی گئی مرضی پہ کسی کی

ہر سانس کی گنتی کو شمارہ بھی کسی نے

کیا اب بھی کوئی ٹوہ میں رہتا ہے ہماری

پوچھا ہے کبھی تم سے ہمارا بھی کسی نے

حالات کی وقعت ہے یا اسباب میں لذت

سُوکھا ہوا دیکھا ہے کنارہ بھی کسی نے

عبرت کا سبب بھی تو بنانا تھا کسی کو

ہر حال میں کرنا تھا گُزارا بھی کسی نے

ہنستے ہوئے ہو جائیں گے اوجھل کبھی نجمی

بُجھتا ہوا دیکھا ہے ستارہ بھی کسی نے


نجم الحسن نجمی

No comments:

Post a Comment