رکھا بھی کسی نے تھا پکارا بھی کسی نے
اس نام کا ہر قرض اُتارا بھی کسی نے
ہر سانس لُٹائی گئی مرضی پہ کسی کی
ہر سانس کی گنتی کو شمارہ بھی کسی نے
کیا اب بھی کوئی ٹوہ میں رہتا ہے ہماری
پوچھا ہے کبھی تم سے ہمارا بھی کسی نے
حالات کی وقعت ہے یا اسباب میں لذت
سُوکھا ہوا دیکھا ہے کنارہ بھی کسی نے
عبرت کا سبب بھی تو بنانا تھا کسی کو
ہر حال میں کرنا تھا گُزارا بھی کسی نے
ہنستے ہوئے ہو جائیں گے اوجھل کبھی نجمی
بُجھتا ہوا دیکھا ہے ستارہ بھی کسی نے
نجم الحسن نجمی
No comments:
Post a Comment