رنج جو دیدۂ نمناک میں دیکھا گیا ہے
یہ فقط سینۂ صد چاک میں دیکھا گیا ہے
اس سے آگے ہے میاں منتظروں کی بستی
اک دِیا🪔 جلتا ہوا طاق میں دیکھا گیا ہے
اے جنوں اس کی کہانی بھی سناؤں گا تجھے
یعنی اک آنکھ ابھی ڈھونڈھتی پھرتی ہے مجھے
یعنی اک تیر مِری تاک میں دیکھا گیا
ہجر اور دشت میں جو شخص بھی ٹھہرا اشفاق
تجربہ اڑتی ہوئی خاک میں دیکھا گیا ہے
اشفاق ناصر
No comments:
Post a Comment