تمہارے لیے اک نظم
میں سوچ رہا ہوں
تمہارے ہجر میں ایسی
نظمیں لکھوں
جو امر ہو جائیں
بارش کی ہتھیلیوں پر
اپنی ٹھوڑی ٹکائے
دور کہیں بادلوں میں
تمہارا چہرہ کھوجنے نکلوں
اور چاند کے پہلو میں
تھک کر گر جاؤں
میں سوچ رہا ہوں
جب خزاں کی آخری شام
مِری آنکھ میں ڈوبے
تو مِرے دل میں تمہارے
وصل کی بہار طلوع ہو
جس کی پہلی صبح
تمہارے بوسوں کی کلیاں
چن کر میں
نئی زندگی آغاز کروں
میں سوچ رہا ہوں
وقاص عزیز
No comments:
Post a Comment