Sunday, 3 July 2022

تمہارے لیے اک نظم

 تمہارے لیے اک نظم


میں سوچ رہا ہوں

تمہارے ہجر میں ایسی

نظمیں لکھوں

جو امر ہو جائیں

بارش کی ہتھیلیوں پر

اپنی ٹھوڑی ٹکائے

دور کہیں بادلوں میں

تمہارا چہرہ کھوجنے نکلوں

اور چاند کے پہلو میں

تھک کر گر جاؤں

میں سوچ رہا ہوں

جب خزاں کی آخری شام

مِری آنکھ میں ڈوبے

تو مِرے دل میں تمہارے

وصل کی بہار طلوع ہو

جس کی پہلی صبح

تمہارے بوسوں کی کلیاں

چن کر میں

نئی زندگی آغاز کروں

میں سوچ رہا ہوں


وقاص عزیز

No comments:

Post a Comment