تھام کر ہاتھ میں اک جام غزل چھیڑتے ہیں
ہم جو گھبرا کے تیرے نام غزل چھیڑتے ہیں
تھے تو آغاز میں مدہوش مگر آج یہاں
سوچ کر عشق کا انجام غزل چھیڑتے ہیں
واہ سنتے ہیں نہ ملتی ہے یہاں داد ہمیں
پھر بھی کس واسطےناکام غزل چھیڑتے ہیں
خاص تحریر میری خاک میں مل جاتی ہے
جب شرارت سے وہ اک عام غزل چھیڑتے ہیں
کیسے ممکن ہے کہ صیّاد کا دل موم نہ ہو؟
آ کے قابو میں تہِ دام غزل چھیڑتے ہیں
خود ہی سمجھوگے ذرا دیکھ لو اوقات کبھی
سن کے قاصد سے یہ پیغام غزل چھیڑتے ہیں
ہو جو غنچوں کو کبھی شوقِ تبسم صادق
ایسے موسم میں سرِ شام غزل چھیڑتے ہیں
ولی صادق
No comments:
Post a Comment