Monday, 4 July 2022

تھام کر ہاتھ میں اک جام غزل چھیڑتے ہیں

 تھام کر ہاتھ میں اک جام غزل چھیڑتے ہیں

ہم جو گھبرا کے تیرے نام غزل چھیڑتے ہیں

تھے تو آغاز میں مدہوش مگر آج یہاں

سوچ کر عشق کا انجام غزل چھیڑتے ہیں

واہ سنتے ہیں نہ ملتی ہے یہاں داد ہمیں

پھر بھی کس واسطےناکام غزل چھیڑتے ہیں

خاص تحریر میری خاک میں مل جاتی ہے

جب شرارت سے وہ اک عام غزل چھیڑتے ہیں

کیسے ممکن ہے کہ صیّاد کا دل موم نہ ہو؟

آ کے قابو میں تہِ دام غزل چھیڑتے ہیں

خود ہی سمجھوگے ذرا دیکھ لو اوقات کبھی

سن کے قاصد سے یہ پیغام غزل چھیڑتے ہیں

ہو جو غنچوں کو کبھی شوقِ تبسم صادق

ایسے موسم میں سرِ شام غزل چھیڑتے ہیں


ولی صادق

No comments:

Post a Comment