سمندر پہ کی گئی محبت
میں نے پہلی بار اسے
ریت میں دھنسے ہوئے تباہ شدہ جہاز کے عرشے پر دیکھا تھا
جب وہ ہنستے ہوئے تصویر بنوا رہی تھی
اس کی آنکھیں بادلوں میں گھرے ہوئے سورج جیسی تھیں
یقیناً بچپن میں اسے نیند میں چلنے کی عادت رہی ہو گی
سمندر جو رشتے میں ہم دونوں کا کچھ نہیں لگتا تھا
پھر بھی ہمارے درمیان تھا
محبت ٹھنڈے پانی کی بوتل نہیں ہوتی
جسے میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے پیش کر سکتا
اگر میں نے سمندر کے بارے میں کوئی کتاب پڑھی ہوئی ہوتی
یا
میں اس تباہ شدہ جہاز کا کپتان رہا ہوتا تو
اس سے کچھ دیر گفتگو ہوسکتی تھی
اگر میرے پاس کچھ پھول ہوتے
تو میں اسے دکھا کر سمندر میں بہا دیتا
پیغام دینے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے
ریل کے ڈبے میں بننے والا تعلق
اور
سمندر پہ کی گئی محبت ہمیشہ دکھ دیتی ہے
آج برسوں بعد
خودکشی کے لیے کسی مناسب مقام کی تلاش میں پھرتا ہوا
میں سوچ رہا ہوں
اگر اس شام کوئی لہر مجھے بہا کر لے جاتی
تو میں اسے کچھ گھنٹے یاد رہ سکتا تھا
ساحر شفیق
No comments:
Post a Comment