Tuesday, 8 September 2020

ہم تو سمجھے تھے محبت کی لڑائی صاحب

ہم تو سمجھے تھے محبت کی لڑائی صاحب
آپ تلوار🗡اٹھا لائے ہیں بھائی صاحب
خاک کو خاک پہ دھرنے کا مزہ اپنا ہے
ہجر میں کون بچھاتا ہے چٹائی صاحب
دھوپ تالاب کا حلیہ تو بدل سکتی ہے
اتنی آسانی سے چھٹتی نہیں کائی صاحب
پھر بھی آوارگی ضائع نہیں جانے والی
کوئی بھی چیز اگر ہاتھ نہ آئی صاحب

خرم آفاق

No comments:

Post a Comment