طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی
وہ آپ تو کیا اس کی خبر بھی نہیں آئی
کچھ آنکھوں میں تو ہو گیا آباد وہ چہرہ
کچھ بستیوں میں آج بھی بجلی نہیں آئی
ہر روز پلٹ آتے تھے مہمان کسی کے
وہ آگ بجھی تو ہمیں موسم نے جھنجھوڑا
ورنہ، یہی لگتا تھا کہ سردی نہیں آئی
شاید وہ محبت کے لیے ٹھیک نہیں تھا
شاید یہ انگوٹھی اسے پوری نہیں آئی
خرم آفاق
No comments:
Post a Comment