Saturday, 5 September 2020

طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی

طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی
وہ آپ تو کیا اس کی خبر بھی نہیں آئی
کچھ آنکھوں میں تو ہو گیا آباد وہ چہرہ
کچھ بستیوں میں آج بھی بجلی نہیں آئی
ہر روز پلٹ آتے تھے مہمان کسی کے
ہر روز یہ کہتے تھے کہ گاڑی نہیں آئی
وہ آگ بجھی تو ہمیں موسم نے جھنجھوڑا
ورنہ، یہی لگتا تھا کہ سردی نہیں آئی
شاید وہ محبت کے لیے ٹھیک نہیں تھا
شاید یہ انگوٹھی اسے پوری نہیں آئی

خرم آفاق

No comments:

Post a Comment