Tuesday, 20 April 2021

دیکھنے والی نگاہوں پہ عیاں ہوتے ہوئے

 دیکھنے والی نگاہوں پہ عیاں ہوتے ہوئے

ہم تِرے پیار کے سائے میں جواں ہوتے ہوئے

شب گزاری ہے کئی بار سڑک پر یونہی

ساتھ اک جاننے والے کا مکاں ہوتے ہوئے

ابھی آغازٍ محبت ہے ذرا حوصلہ رکھ

کبھی دیکھا نہیں دریا کو رواں ہوتے ہوئے

میں کسی اور کی خوشیوں کا سبب بنتا ہوا

تم کسی اور کے چُولہے کا دھواں ہوتے ہوئے

خرم آفاق بُرا اس کو تو کہتے ہو مگر

تم بھی موجود یہاں کب ہو یہاں ہوتے ہوئے


خرم آفاق

No comments:

Post a Comment