Tuesday, 20 April 2021

مصلحت کوش نہ تھے خواب جلانے سے رہے

 مصلحت کوش نہ تھے خواب جلانے سے رہے

رات بنتی ہوئی اک بات بنانے سے رہے

بزمِ آئندہ میں کب کون کہاں بیٹھے گا

رفتگاں سب کو یہ اسرار بتانے سے رہے

تم نے لوٹ آنے کی امید لگائی ہے عبث

ہم جو دیوار اٹھا دیں وہ گرانے سے رہے

تِرے پہلو سے سرکتے ہوئے دل رونے لگا

ڈوبنے والے کو تیراک بچانے سے رہے

ہم سے ہوتی نہیں تشہیر تعلق بے کار

قیمتی شے سر دیوار سجانے سے رہے

اپنی دلچسپی کا سامان نہیں تھی دنیا

ہم یہاں ٹھہرے مگر تیرے بہانے سے رہے


شمامہ افق

No comments:

Post a Comment