پھر کبھی سامنا ہو نہ ہو ہمسفر
راہ کٹ جائے گی کچھ کہو ہمسفر
اس سے آگے بڑے پر خطر موڑ ہیں
اس سے آگے کا تم سوچ لو ہمسفر
ہمسفر یہ بتاؤ کہ تم بھی کبھی؟
عشق میں خیر چھوڑو چلو ہمسفر
زندگی اک سفر در سفر ہے مگر
یاد رہتے ہیں بس ایک دو ہمسفر
اس جگہ میں نے کھویا تھا اک شخص کو
اس جگہ مت رکو مت رکو ہمسفر
میری آنکھیں بھی سامان میں باندھ لو
گر بچھڑنا ہے تو یوں کرو ہمسفر
افتخار مغل
No comments:
Post a Comment