وحشتیں، خوف، گھٹن، اوڑھ کے سو جاتا ہوں
اور کچھ دل کی لگن اوڑھ کے سو جاتا ہوں
جب بھی یادوں کے دریچوں سے دھواں اٹھتا ہے
اپنی آہوں کی جلن اوڑھ کے سوجاتا ہوں
چھوڑ جاتے ہیں جو احباب میرے آنگن میں
تلخ لفظوں کی چبھن اوڑھ کے سو جاتا ہوں
روز دھرتی کو بناتا ہوں میں بستر اپنا
اور پھر سر پہ گگن اوڑھ کے سو جاتا ہوں
تیرے احساس کی خوشبو کو بسا کر دل میں
تیرے لہجے کی تھکن اوڑھ کے سو جاتا ہوں
روز خیرات کی ذلت سے بچا کر خود کو
روز اک بھوکا بدن اوڑھ کے سو جاتا ہوں
خانۂ دل میں بھڑک اٹھتے ہیں شعلے جس دم
جلتے خوابوں کا کفن اوڑھ کے سو جاتا ہوں
شب کی دہلیز پہ سر رکھ کہ میں چپ چاپ امین
خواہشِ صبحِ چمن اوڑھ کے سو جاتا ہوں
امین اوڈیرائی
No comments:
Post a Comment