مجھے انٹِیک مت سمجھو
کبھی وہ دن تھے
کہ شوخ آنکھوں کے سرخ ڈورے
گلاس بھر بھر شرارتوں کے اُنڈیلتے تھے
وہ اتنا ہنستے
کھنک سے ان کی
کہیں سفیدی بھی پھُوٹ پڑتی
تو گفتگو کے اُجالے تاریکیوں کا بستر لپیٹ دیتے
دھنک کے رنگوں کو کینوس پر سمیٹ دیتے
سفر کے آغاز میں تو کتنے ہی کوہ قافوں کی
پریاں اُتریں
مگر یہ اب کن رُتوں نے ڈیرے لگا لیے ہیں
اُداسیاں چار سُو اُگی ہیں
سو خوابگاہوں میں جھینگروں کی صدائیں چُپ کو نگل رہی ہیں
جبیں سے تنہائیاں چپک کر
گزرتے لمحوں کی دُھول آنکھوں میں بھر رہی ہیں
ارشد معراج
No comments:
Post a Comment