Sunday, 14 November 2021

یہ کس مرض کی دوائیں خرید رکھی ہیں

 یہ کس مرض کی دوائیں خرید رکھی ہیں

زمین ہے نہیں، اینٹیں خرید رکھی ہیں

اگر وہ ساتھ چلے تو مجھے خوشی ہو گی

وگرنہ، میں نے تو ٹکٹیں خرید رکھی ہیں

حضور کون ہے ان نیلی آنکھوں کا مالک

حضور کس نے یہ لہریں خرید رکھی ہیں

گزر رہے ہیں یوں آوارہ گردی میں دن رات

کہ جیسے ہم نے یہ سڑکیں خرید رکھی ہیں

تِرے بغیر یہ راتیں گزارنے کے لیے

تِری پسند کی فلمیں خرید رکھی ہیں


خرم آفاق

No comments:

Post a Comment