Sunday, 14 November 2021

غم ہائے روزگار سے فرصت نہیں مجھے

 غم ہائے روزگار سے فُرصت نہیں مجھے

میں کیسے کہہ دوں تم سے محبت نہیں مجھے

اپنو کی سازشوں سے ہی مصروفِ جنگ ہوں

غیروں سے دُشمنی کی ضرورت نہیں مجھے

دل میں ابھی چُبھے ہیں وہ الفاظ تیر سے

تُو نے کہا تھا جب؛ تِری چاہت نہیں مجھے

پنہاں ہیں کُنجِ دل میں کئی دردِ لا دوا

بے وجہ مُسکرانے کی عادت نہیں مجھے

سوغاتِ زخمِ دل تو مقدر کی بات ہے

اے یار! تجھ سے کوئی شکایت نہیں مجھے

تنہائیوں سے مجھ کو رفاقت سی ہو گئی

عارف سیاہ شب سے بھی وحشت نہیں مجھے


عسکری عارف

No comments:

Post a Comment