دیکھتا ہے انہیں حیرت سے زمانہ چُپ چاپ
ظلم پر آج ہے منصف کا گھرانا چپ چاپ
خونِ نا حق پہ خموش آپ تو رہ سکتے ہیں
آپ کی طرح رہے کیسے زمانہ چپ چاپ
بے وقوفوں کے سوالوں کا وہ کیا دیتے جواب
عقل مندی تھی اِسی میں، رہے دانا چپ چاپ
وہ تو بکتا ہی رہے گا کبھی کچھ اور کبھی کچھ
کیسے ممکن ہے رہے کوئی دِوانہ چپ چاپ
آیا طوفاں کی طرح وہ، گیا آندھی کی طرح
اس کا آنا تھا نہ چپ چاپ، نہ جانا چپ چاپ
پے بہ پے ہم پہ چلاتے رہے وہ تیرِ ستم
اور ہم بنتے رہے ان کا نشانہ چپ چاپ
ہاتھ جب روک لیے اہلِ قلم نے صابر
ہر کہانی رہی چپ چاپ فسانہ چپ چاپ
حلیم صابر
No comments:
Post a Comment