Sunday, 14 November 2021

محبت ہٹ رہی ہے درمیاں سے

 محبت ہٹ رہی ہے درمیاں سے

زمیں ٹکرا نہ جائے آسماں سے

وہ منزل سخت ہے ہر امتحاں سے

محبت رخ بدلتی ہے جہاں سے

ہزاروں ماہ و انجم ہیں تہِ خاک

زمیں کچھ کم نہیں ہے آسماں سے

منور ہیں ابھی تک وہ مقامات

میں تیرے ساتھ گزرا ہوں جہاں سے

زمیں کی پستیوں میں کھو گئے ہیں

زمیں ٹکرانے والے آسماں سے

مِری آنکھوں میں آنسو تو بہت ہیں

مگر دامن ترا لاؤں کہاں سے

زمیں کی خاک تک دے دی زمیں کو

میں دامن جھاڑ کے اٹھا جہاں سے

مقامِ آشیاں کی جستجو میں

گزر جا بجلیوں کے درمیاں سے

مسلسل امتحاں ہے زندگانی

کہیں گھبرا نہ جانا امتحاں سے

بنانا ہے مجھے خود اپنی منزل

الگ ہوں نقش پائے کارواں سے

وہی دنیا الٹ دیتے ہیں شارب

جو اکثر کچھ نہیں کہتے زباں سے


شارب لکھنوی

No comments:

Post a Comment