کہیں دنیا کی دولت رقص میں ہے
کہیں غربت ہی غربت رقص میں ہے
یہ سرشاری تمہاری دی ہوئی ہے
یہ میں کب ہوں محبت رقص میں ہے
مِری ہی خاک اڑتی ہے مِرے گرد
بلائے جاں اذیت رقص میں ہے
طلب کی تال پر گھنگھرو بندھے ہیں
کسی گھر کی ضرورت رقص میں ہے
پسِ دیوار چرچا اور بھی اک
سرِ بازار شہرت رقص میں ہے
سمجھ آتی نہیں مزدور دل کی
یہ غربت ہے کہ محنت رقص میں ہے
کہیں کرنوں سا لہرائے مِرا دل
کہیں موجوں کی صورت رقص میں ہے
وقاص عزیز
No comments:
Post a Comment