Sunday, 14 November 2021

کہیں دنیا کی دولت رقص میں ہے

 کہیں دنیا کی دولت رقص میں ہے

کہیں غربت ہی غربت رقص میں ہے

یہ سرشاری تمہاری دی ہوئی ہے

یہ میں کب ہوں محبت رقص میں ہے

مِری ہی خاک اڑتی ہے مِرے گرد

بلائے جاں اذیت رقص میں ہے

طلب کی تال پر گھنگھرو بندھے ہیں

کسی گھر کی ضرورت رقص میں ہے

پسِ دیوار چرچا اور بھی اک

سرِ بازار شہرت رقص میں ہے

سمجھ آتی نہیں مزدور دل کی

یہ غربت ہے کہ محنت رقص میں ہے

کہیں کرنوں سا لہرائے مِرا دل

کہیں موجوں کی صورت رقص میں ہے


وقاص عزیز

No comments:

Post a Comment