Tuesday, 15 March 2022

تماشہ لگانے کو اک ڈگڈگی ایک بندر

 تماشہ


تماشہ لگانے کو اک

ڈگڈگی، ایک بندر

تماشائی کچھ

اور آواز کے زیر و بم

کو اٹھانے بٹھانے کی

معمولی مشق و مہارت

سبھی گر تماشے کے

میں جانتی ہوں

مگر اس تماشے میں بندر

بچارے کی بے چارگی کو

ہزیمت کو دیکھوں؟

ذرا سی بھی ہمت نہیں ہے

تماشا جو ہر روز کرتا ہے تو

میں اسے دیکھتی ہوں

چلن اس زمانے کے

سب جانتی ہوں


پروین طاہر

No comments:

Post a Comment