تماشہ
تماشہ لگانے کو اک
ڈگڈگی، ایک بندر
تماشائی کچھ
اور آواز کے زیر و بم
کو اٹھانے بٹھانے کی
معمولی مشق و مہارت
سبھی گر تماشے کے
میں جانتی ہوں
مگر اس تماشے میں بندر
بچارے کی بے چارگی کو
ہزیمت کو دیکھوں؟
ذرا سی بھی ہمت نہیں ہے
تماشا جو ہر روز کرتا ہے تو
میں اسے دیکھتی ہوں
چلن اس زمانے کے
سب جانتی ہوں
پروین طاہر
No comments:
Post a Comment