Sunday, 20 June 2021

اس نے مجھ میں عشق جگایا پھینک دیا

 اس نے مجھ میں عشق جگایا، پھینک دیا

جیسے پھل کو کھا کر چِھلکا پھینک دیا

اس کے ہاتھ میں دو دل تھے اور پھر اک دن

اس نے ایک کو رکھا، دُوجا پھینک دیا

آخر ایک مُسلسل کرب کہاں تک رُکتا

دل نے آنکھ کی جانب دریا پھینک دیا

شیریں تنہائیوں میں جینا سیکھ گئی

اور فرہاد نے اپنا تیشہ پھینک دیا

گھر کی روٹی اس نے پوری کرنی تھی

باپ مَرا تو لعل نے بستہ پھینک دیا

اس نے ابھی جانے کی بات ہی چھیڑی تھی

میں نے اس کے آگے رستہ پھینک دیا


آفتاب باسم

No comments:

Post a Comment