Saturday, 19 June 2021

بڑا عجیب تھا اس کا وداع ہونا بھی

 بڑا عجیب تھا اس کا وِداع ہونا بھی

نہ ہو سکا میرا اس سے لپٹ کے رونا بھی

نہ کوئی خواب ہے آنکھوں میں اب نہ بیداری

تِرے سبب تھا میرا جاگنا بھی سونا بھی

تیرے فقیر کو اتنی سی جا بھی کافی ہے

جو تیرے دِل میں نکل آئے ایک کونا بھی

یہ کم نہیں میسر ہے جو زندگی سے مجھے

کبھی کبھار کا ہنسنا، اداس ہونا بھی

تِرا گزارنا ہموار راستوں سے ہمیں

ہمارے پاؤں میں کانٹے کبھی چبھونا بھی

چلا گیا کوئی آنکھوں میں گرد اڑاتا ہوا

نہ کام آیا کوئی ٹوٹکا، نہ ٹونا بھی

طلب بڑی ہی اذیت کا کام ہوتا ہے

بکھرتے ٹوٹتے رِشتوں کا بوجھ ڈھونا بھی


خورشید طلب

No comments:

Post a Comment