Sunday, 20 June 2021

کب خزانہ تلاش کرتا ہوں

کب خزانہ تلاش کرتا ہوں

آب و دانہ تلاش کرتا ہوں

جس زمانے کو ہے تلاش مری

وہ زمانہ تلاش کرتا ہوں

لے کے دریا کو اپنی مٹھی میں

کوئی پیاسا تلاش کرتا ہوں

کام دھندہ ہے اب یہی میرا

کام دھندہ تلاش کرتا ہوں

تیرا چہرہ تو ہر طرف پایا

اپنا چہرہ تلاش کرتا ہوں

تھک گیا ہوں تلاش کر کر کے

پھر دوبارہ تلاش کرتا ہوں

ایک منظر حسیں بنایا ہے

آنکھ والا تلاش کرتا ہوں

راکھ کا ڈھیر ہے مِرے آگے

اس میں شعلہ تلاش کرتا ہوں

عابدی بے گھری نے مار دیا

شب بسیرا تلاش کرتا ہوں


خواجہ علی حسین عابدی

No comments:

Post a Comment