بس ایک بار کہا نا نہیں بنا سکتی
میں روز روز بہانا نہیں بنا سکتی
تِرا خیال مِری روٹیاں جلاتا ہے
میں اطمینان سے کھانا نہیں بنا سکتی
ضرور وہ کسی آسیب کی گرفت میں ہے
میں اس قدر تو دِوانہ نہیں بنا سکتی
سبھی کی تنگ خیالی نے گھر کو بانٹ دیا
اکیلی سوچ گھرانا نہیں بنا سکتی
نئے نئے سے یہ انداز چُبھ رہے ہیں مگر
میں تم کو پھر سے پرانا نہیں بنا سکتی
شازیہ نیازی
No comments:
Post a Comment