Wednesday, 13 October 2021

فضائے دہر کا سارا ہی سلسلہ دکھ ہے

 فضائے دہر کا سارا ہی سلسلہ دکھ ہے 

ثبات دکھ ہے مگر اس سے بڑھ کے لا دکھ ہے 

ہماری مٹی میں یزداں نے جانے کیا بویا 

ہر ایک نخلِ تمنا سے پُھوٹتا دکھ ہے 

تجھے کہا تھا؛ کہ اتنا قریب مت آؤ

میں جانتا تھا بچھڑنا بہت بڑا دکھ ہے 

یوں میرے سامنے یہ کھوکھلی ہنسی مت اوڑھ 

تُو رو اور رو کے بتا دے کہ تجھ کو کیا دکھ ہے 

عجیب ہوائے حوادث چلی ہے اب باسم 

سکوتِ شہر میں ہر سمت ناچتا دکھ ہے 


آفتاب باسم

No comments:

Post a Comment