فضائے دہر کا سارا ہی سلسلہ دکھ ہے
ثبات دکھ ہے مگر اس سے بڑھ کے لا دکھ ہے
ہماری مٹی میں یزداں نے جانے کیا بویا
ہر ایک نخلِ تمنا سے پُھوٹتا دکھ ہے
تجھے کہا تھا؛ کہ اتنا قریب مت آؤ
میں جانتا تھا بچھڑنا بہت بڑا دکھ ہے
یوں میرے سامنے یہ کھوکھلی ہنسی مت اوڑھ
تُو رو اور رو کے بتا دے کہ تجھ کو کیا دکھ ہے
عجیب ہوائے حوادث چلی ہے اب باسم
سکوتِ شہر میں ہر سمت ناچتا دکھ ہے
آفتاب باسم
No comments:
Post a Comment