زلفِ جاناں کو سنواریں گے چلے جائیں گے
روز و شب یونہی گزاریں گے چلے جائیں گے
کون سمجھے گا مِرے کرب کی گہرائی کو
لوگ پنکھے سے اتاریں گے چلے جائیں گے
آپ کے حسن کو ہم ماند نہ پڑنے دیں گے
خونِ دل دے کے نکھاریں گے چلے جائیں گے
کپکپاہٹ مِرے ہونٹوں کو لگى رہنی ہے
آپ آئیں گے، پکاریں گے، چلے جائیں گے
ایک دو دوست ہیں اور دوست بھی ایسے انجم
مجھ کو مٹی میں اتاریں گے چلے جائیں گے
منیر انجم
کمال ہے 👌 😍 ❤️ 🌹 ♥️
ReplyDeleteالسلام علیکم سہیل شاہد صاحب! بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ، شاعری کو سراہنے کے لیے تہ دل سے مشکور ہوں۔
Delete