Sunday, 14 November 2021

نہیں جاتا یہ پہلے عشق کا دکھ

 نہیں جاتا یہ پہلے عشق کا دکھ

بڑا دکھ ہے یہ تیرے عشق کا دکھ

تو خوش ہے مسکراہٹ ہے لبوں پر

مگر آنکھوں میں میرے عشق کا دکھ

وہ دن بھی تھے تری پلکوں کے جیسے

یہ راتیں بھی ہیں جیسے عشق کا دکھ

زمانے کو سنائی دے رہا ہے

مِرے شعروں میں تیرے عشق کا دکھ

انا کی جنگ تو ماں باپ جیتے

مگر ہائے ہمارے عشق کا دکھ

مِری آنکھیں بھی نم ہیں اور دل بھی

لگا ہے مجھ کو ایسے عشق کا دکھ


وقاص عزیز

No comments:

Post a Comment