نہیں جاتا یہ پہلے عشق کا دکھ
بڑا دکھ ہے یہ تیرے عشق کا دکھ
تو خوش ہے مسکراہٹ ہے لبوں پر
مگر آنکھوں میں میرے عشق کا دکھ
وہ دن بھی تھے تری پلکوں کے جیسے
یہ راتیں بھی ہیں جیسے عشق کا دکھ
زمانے کو سنائی دے رہا ہے
مِرے شعروں میں تیرے عشق کا دکھ
انا کی جنگ تو ماں باپ جیتے
مگر ہائے ہمارے عشق کا دکھ
مِری آنکھیں بھی نم ہیں اور دل بھی
لگا ہے مجھ کو ایسے عشق کا دکھ
وقاص عزیز
No comments:
Post a Comment