Monday, 15 November 2021

روپ کی ہوتی اگر وہ دولتی

 روپ کی ہوتی اگر وہ دولتی

آنسووں کو خاک میں کب رولتی

ایک حسرت ہی رہی یہ عمر بھر

تیری آنکھوں سے محبت بولتی

اس کو بھاتی ہی نہیں تازہ ہوا

ورنہ گھر کے وہ دریچے کھولتی

پیار کا کانٹا نہیں تھا اس کے پاس

کس ترازو میں مجھے وہ تولتی

گر ملاتی آنکھ میری آنکھ سے

مست ہوتی ساتھ میرے ڈولتی


محمود پاشا

No comments:

Post a Comment