اگر موسم سہانا رقص کرتا
گلی کا ہر سیانا رقص کرتا
گھڑی کے پاؤں میں گھنگرو نہیں ہیں
وگرنہ، یہ زمانہ رقص کرتا
میرے گھر میں بھی جو آتی امیری
تو میں بھی مُفلسانہ رقص کرتا
جو ہوتی فصل یہ گندم کی اچھی
خوشی سے باردانہ رقص کرتا
فلک سے چاندنی اُتری نہیں ہے
نہیں تو ہر دیوانہ رقص کرتا
لگاتا چار ٹُھمکے میں خوشی سے
تعلق گر پرانا رقص کرتا
کوٸی ایسی گھڑی محمود آتی
مِرا پورا گھرانہ رقص کرتا
محمود پاشا
No comments:
Post a Comment