Saturday, 3 July 2021

اگر موسم سہانا رقص کرتا

 اگر موسم سہانا رقص کرتا

گلی کا ہر سیانا رقص کرتا

گھڑی کے پاؤں میں گھنگرو نہیں ہیں

وگرنہ، یہ زمانہ رقص کرتا

میرے گھر میں بھی جو آتی امیری

تو میں بھی مُفلسانہ رقص کرتا

جو ہوتی فصل یہ گندم کی اچھی

خوشی سے باردانہ رقص کرتا

فلک سے چاندنی اُتری نہیں ہے

نہیں تو ہر دیوانہ رقص کرتا

لگاتا چار ٹُھمکے میں خوشی سے

تعلق گر پرانا رقص کرتا

کوٸی ایسی گھڑی محمود آتی

مِرا پورا گھرانہ رقص کرتا


محمود پاشا

No comments:

Post a Comment