Saturday, 3 July 2021

اپنی تعبیر کے زندان میں مر جاتے ہیں

 اپنی تعبیر کے زندان میں مر جاتے ہیں

مُٹھی کھولوں تو مِرے خواب بِکھر جاتے ہیں

اب تو عرصے سے مجھے ہوش نہیں ہے اپنا

لوگ آتے ہیں خود ہی دل میں ٹھہر جاتے ہیں

مِرے حلقے میں منافق بھی بسے رہتے ہیں

آئینہ دیکھ کے شرماتے ہیں، مر جاتے ہیں

پھر یہ سوچا تھا کہ بالکل نہیں ملنا اب تو

حد بھی ایسی ہے کہ چُپ چاپ گزر جاتے ہیں

وعدہ کر کے بھی کوئی ہوتے ہیں ایسے مخلص

جانے انجانے میں ہر بار مکر جاتے ہیں

عشق کا ڈھنگ تو سیکھو ذرا پروانوں سے

مرتے مرتے ہی کوئی کام تو کر جاتے ہیں

یوں تو آہٹ سے بھی ہم تھے کبھی لرزاں ماجد

اب تو طوفان بھی آ جائے سنور جاتے ہیں


عبدالماجد ہاشمی

No comments:

Post a Comment