Saturday, 3 July 2021

ندی بہاتے ہوئے بستیاں بساتے ہوئے

 ندی بہاتے ہوئے، بستیاں بساتے ہوئے

یہاں سے کون گیا ہے کسے بُلاتے ہوئے

یہ کون اژدھے رستے نِگل گئے میرے

یہ کیوں پہنچتے نہیں شہ سوار آتے ہوئے

کہاں پہ رُک گیا پا کر کسی نگاہ کی جھیل

تِرا ستارہ مِرے آسماں کو آتے ہوئے

فلک رواں ہے کہ پانی ہے سانس لیتا ہوا

گزر رہا ہے کیوں آئینہ گنگناتے ہوئے

تھے راستے مِرے پیروں کے انتظار میں گم

میں خرچ ہو گیا اک نقشِ پا بناتے ہوئے


رضوان فاخر

No comments:

Post a Comment