Saturday, 3 July 2021

اداس شاموں کی وحشتوں میں دعائیں کرنا

 مراقبہ


دعائیں کرنا

اداس شاموں کی وحشتوں میں دعائیں کرنا

دعائیں کرنا کہ رائیگانی کی جستجو تو نہیں ہے لیکن

وہ اک مسافر

کئی دنوں سے تلاش میں ہے

سو چلتے چلتے وہ اپنے قبلے کے سامنے ہے

رُکا ہوا ہے

یہ پہلا قبلہ بہت مقدس ہے ایک انسان کی جگہ میں

(جو اب نہیں ہے)

یہاں سے آگے کوئی نہیں

بڑا سا میدان ہے وہاں بھی کوئی نہیں ہے

نہ کوئی گھر ہے، نہ کوئی در ہے

تھکا ہوا ہے

کہ اس تھکاوٹ سے اس کے چہرے پہ

ایک وحشت اُبھر رہی ہے

جو کہہ رہی ہے

کہ رائیگانی کے خوف نے تو تمہیں بھی پاگل بنا دیا

گِرا دیا ہے

گِرا دیا ہے مراقبے میں

جو اس کی آنکھوں سے اشک پلکوں پہ آ رہے ہیں

وہ کہہ رہے ہیں، ڈٹا ہوا ہے

کئی دنوں سے مراقبے میں پڑا ہوا ہے

اسی کے بدلے میں اس کے ماتھے پہ اک ستارہ سا بن گیا ہے

یہی ستارہ بتا رہا ہے

وہ کِھل اٹھا ہے

دُعائیں کرنا

تمام لوگو دُعائیں کرنا

جو اس کے سینے میں ایک کھڑکی ہے

کُھل رہی ہے


اسامہ امیر

No comments:

Post a Comment