مراقبہ
دعائیں کرنا
اداس شاموں کی وحشتوں میں دعائیں کرنا
دعائیں کرنا کہ رائیگانی کی جستجو تو نہیں ہے لیکن
وہ اک مسافر
کئی دنوں سے تلاش میں ہے
سو چلتے چلتے وہ اپنے قبلے کے سامنے ہے
رُکا ہوا ہے
یہ پہلا قبلہ بہت مقدس ہے ایک انسان کی جگہ میں
(جو اب نہیں ہے)
یہاں سے آگے کوئی نہیں
بڑا سا میدان ہے وہاں بھی کوئی نہیں ہے
نہ کوئی گھر ہے، نہ کوئی در ہے
تھکا ہوا ہے
کہ اس تھکاوٹ سے اس کے چہرے پہ
ایک وحشت اُبھر رہی ہے
جو کہہ رہی ہے
کہ رائیگانی کے خوف نے تو تمہیں بھی پاگل بنا دیا
گِرا دیا ہے
گِرا دیا ہے مراقبے میں
جو اس کی آنکھوں سے اشک پلکوں پہ آ رہے ہیں
وہ کہہ رہے ہیں، ڈٹا ہوا ہے
کئی دنوں سے مراقبے میں پڑا ہوا ہے
اسی کے بدلے میں اس کے ماتھے پہ اک ستارہ سا بن گیا ہے
یہی ستارہ بتا رہا ہے
وہ کِھل اٹھا ہے
دُعائیں کرنا
تمام لوگو دُعائیں کرنا
جو اس کے سینے میں ایک کھڑکی ہے
کُھل رہی ہے
اسامہ امیر
No comments:
Post a Comment