Sunday, 14 November 2021

چاند تیری چاندنی بے کار ہے

 چاندنی


جب تلک ناچیں نہ لہریں بحر پر

ہو چکوری پر نہ طاری بے خودی

روپ دلہن کا نہ دھارے دشت گر

مورنی بولے نہ آدھی رات کو

مہ جبینوں کے نہ دل دھڑکیں اگر

عاشقوں پر گر نہ اترے اضطراب

اور فضا منظر نہ دے اک خواب کا

چاند تیری چاندنی بے کار ہے


محمود پاشا

No comments:

Post a Comment