Thursday, 25 March 2021

غموں سے رشتہ ہے اپنا بھی دوستی کی طرح

 غموں سے رشتہ ہے اپنا بھی دوستی کی طرح

ملے ہیں اشک بھی ہم کو یہاں ہنسی کی طرح

کرم کی زحمت بے جا کا شکریہ، لیکن

تمہارے درد کو چاہا ہے زندگی کی طرح

میں اپنا درد لیے اب کہاں کہاں جاؤں؟

مجھے رفیق بھی ملتے ہیں اجنبی کی طرح

شریف لوگ بھی ہوتے ہیں مصلحت کا شکار

اجالے آج بھی ملتے ہیں تیرگی کی طرح

یہ کس نے شمعیں جلائی ہیں اپنی یادوں کی

اندھیرے گھر میں ہے یہ کون روشنی کی طرح

کسی خیال میں اکثر شگفتہ رہتا ہوں

کوئی خیال ہے پھولوں کی تازگی کی طرح

یہ اور بات کہ اب میں رئیسِ محفل ہوں

غریبِ شہر کبھی تھا میں آپ ہی کی طرح


رئیس اختر

No comments:

Post a Comment