جنوں کی حدوں سے گزرنا نہیں ہے
محبت میں جینا ہے، مرنا نہیں ہے
ہمارے مقدر میں جب تم نہیں تو
کسی کے لیے اب سنورنا نہیں ہے
مجھے صرف تم دیکھ سکتے ہو لیکن
گناہوں کی تہہ میں اترنا نہیں ہے
مجھے تم کھلونا سمجھتے ہو سمجھو
مجھے ٹوٹ کر اب بکھرنا نہیں ہے
یہ طے کر لیا ہے کسی حال میں بھی
تمناؤں کا خون کرنا نہیں ہے
میں جس کی ہوں اس کی رہوں گی ہمیشہ
کسی اور پر مجھ کو مرنا نہیں ہے
انا میں تو بہتی ہوئی اک ندی ہوں
کسی کے لیے بھی ٹھہرنا نہیں ہے
انا دہلوی
No comments:
Post a Comment