Sunday, 16 January 2022

اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھے

 اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھے

اے شوقِ ہرزہ تاز! کہاں لے چلا مجھے

یہ دردِ دل ہی زیست کا باعث ہے چارہ گر

مر جاؤں گا جو آئی موافق دوا مجھے

اس ذوقِ ابتلا کا مزا اس کے دم سے ہے

سب کچھ ملا ملا ہو دل مبتلا مجھے

دیر و حرم کو دیکھ لیا خاک بھی نہیں

بس اے تلاش یار نہ در در پھرا مجھے

یہ دل سے دور ہو نہ دکھائے خدا وہ دن

ظالم تِرا خیال ہے دل سے سوا مجھے

رنج و ملال و حسرت و ارمان و آرزو

جانے سے ایک دل کے بہت کچھ ملا مجھے

میں جانتا ہوں آپ ہیں مست اپنے حال میں

بیخود نہیں ہے آپ سے مطلق گِلا مجھے 


بیخود بدایونی

No comments:

Post a Comment