مِرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا 🂱 ہے
کہ ہر جلوے میں اسکے کیا کہوں اور ہی جھمکا ہے
نہیں ہونے کا چنگا گر سلیمانی لگے مرہم
ہمارے دل پہ کاری زخم اس ناوک پلک کا ہے
کئی باری بنا ہو جس کی پھر کہتے ہیں ٹوٹے گا
ہر اک دل کے تئیں لے کر وہ چنچل بھاگ جاتا ہے
ستمگر ہے، جفا جُو ہے، شرابی ہے، اُچکا ہے
نہ جا واعظ کی باتوں پر ہمیشہ مے کو پی تاباں
عبث ڈرتا ہے تُو دوزخ سے اک شرعی درکا ہے
عبدالحئ تاباں
٭مَکا= مَکہ
No comments:
Post a Comment