Sunday, 16 August 2020

رنگ سے پیرہن سادہ حنائی ہو جائے

رنگ سے پیرہنِ سادہ حنائی ہو جائے 
پہنے زنجیر جو چاندی کی طلائی ہو جائے 
خود فروشی کو جو تُو نکلے بہ شکل یوسف 
اے صنم! تیری خریدار خدائی ہو جائے 
خطِ توام کی طرح عاشق و معشوق ہیں ایک 
دونوں بے کار ہیں، جس وقت جدائی ہو جائے 
تنگی گوشۂ عزلت ہے بیاں سے باہر 
نہیں امکان کہ چیونٹی کی سمائی ہو جائے
یہی ہر عضو سے آتی ہے صدا فرقت میں 
وقت یہ وہ ہے جدا بھائی سے بھائی ہو جائے
اپنی ہی آگ میں اے برق جلا جاتا ہوں 
عنصرِ خاک ہو تربت جو لڑائی ہو جائے

مرزا رضا برق

No comments:

Post a Comment