Sunday, 16 August 2020

مثال تار نظر کیا نظر نہیں آتا

مثال تارَ نظر کیا نظر نہیں آتا
کبھی خیال میں موئے کمر نہیں آتا
ہمارے عیب نے بے عیب کر دیا ہم کو
یہی ہنر ہے، کہ کوئی ہنر نہیں آتا
محال ہے کہ مِرے گھر وہ رات کو آئے
کہ شب کو مہرِ درخشاں نظر نہیں آتا
تمام خلق میں رہتی ہے دھوپ راتوں کو
وہ مہر بام سے جب تک اتر نہیں آتا
محال ہے کہ جہنم میں خُلد سے جائیں
جو در پر آپ کے جاتا ہے، گھر نہیں آتا
ہماری زیست میں تھے ساتھ کون کون اے برق
اب ایک فاتحہ کو قبر پر نہیں آتا

مرزا رضا برق

No comments:

Post a Comment