بیخودی سی بیخودی ہے جلوۂ دیدار سے
نیند آئی مجھ کو فیض دولتِ بیدار سے
ہے جو لطف آمیز اشارہ ابروئے خمدار سے
وہ فسوں گر کاٹتا ہے دردِ سر تلوار سے
ہم نے اندازِ جنوں سیکھا ہے اک ہشیار سے
ابتدا سے حشر کا سنتے چلے آتے تھے نام
ہو گیا حاصل یقیں بارے تِری رفتار سے
اس کی گنجائش ہے آغوشِ تصور میں محال
جس کا سایہ شوخ تر ہو انجمِ سیّار سے
ہے تہی دستی جہنم اہل حرص و آز کو
رات دن جلتے ہیں داغِ درہم و دینار سے
شوخی و غمزہ کرشمہ عشوہ انداز و ادا
ہے دلِ تنہا مقابل لشکرِ جرّار سے
رہ گئی تیرے سوا شاید تمنا اور بھی
کُچھ کھٹکتے ہیں ابھی پہلوئے دل میں خار سے
یار نازک طبع ہے اور داستانِ غم دراز
دوستو گھبرا نہ جائے وہ مِرے طومار سے
عشق بے تاب و وصال اور حسن استغنا پسند
کس طح تسکینِ دل ہو وعدۂ دیدار سے
ہیں زمیں و آسماں ہنگامۂ وحدت سے پُر
مجھ کو آتی ہے یہ میری ہی صدا کہسار سے
اسماعیل میرٹھی
No comments:
Post a Comment