ساقی ہو اور چمن ہو، مینا ہو اور ہم ہوں
باراں ہو اور ہوا ہو، سبزہ ہو اور ہم ہوں
زاہد ہو اور تقویٰ، عابد ہو اور مصلیٰ
مالا ہو اور برہمن، صہبا ہو اور ہم ہوں
مجنوں ہیں ہم ہمیں تو اس شہر سے ہے وحشت
یارب کوئی مخالف ہووے نہ گرد میرے
خلوت ہو اور شب ہو، پیارا ہو اور ہم ہوں
دیوانگی کا ہم کو کیا حظ ہو ہر طرف گر
لڑکے ہوں اور پتھرے، بلوہ ہو اور ہم ہوں
اوروں کو عیش و عشرت اے چرخِ بے مروت
غصہ ہو اور غم ہو، رونا ہو اور ہم ہوں
ایمان و دِیں سے تاباں کچھ کام نہیں ہے ہم کو
ساقی ہو اور مے ہو، دنیا ہو اور ہم ہوں
عبدالحئ تاباں
No comments:
Post a Comment