Wednesday, 19 August 2020

ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوں

ساقی ہو اور چمن ہو، مینا ہو اور ہم ہوں
باراں ہو اور ہوا ہو، سبزہ ہو اور ہم ہوں
زاہد ہو اور تقویٰ، عابد ہو اور مصلیٰ
مالا ہو اور برہمن، صہبا ہو اور ہم ہوں
مجنوں ہیں ہم ہمیں تو اس شہر سے ہے وحشت
شہری ہوں اور بستی، صحرا ہو اور ہم ہوں
یارب کوئی مخالف ہووے نہ گرد میرے
خلوت ہو اور شب ہو، پیارا ہو اور ہم ہوں
دیوانگی کا ہم کو کیا حظ ہو ہر طرف گر
لڑکے ہوں اور پتھرے، بلوہ ہو اور ہم ہوں
اوروں کو عیش و عشرت اے چرخِ بے مروت
غصہ ہو اور غم ہو، رونا ہو اور ہم ہوں
ایمان و دِیں سے تاباں کچھ کام نہیں ہے ہم کو
ساقی ہو اور مے ہو، دنیا ہو اور ہم ہوں

عبدالحئ تاباں

No comments:

Post a Comment