Wednesday, 19 August 2020

آخر یہ حسن چھپ نہ سکے گا نقاب میں

آخر یہ حسن چھپ نہ سکے گا نقاب میں
شرماؤ گے تمہیں نہ کرو ضد حجاب میں
پامال شوخیوں میں کرو تم زمیں کو
ڈالو فلک پہ زلزلہ میں اضطراب میں
روشن ہے آفتاب کی نسبت چراغ سے
نسبت وہی ہے آپ میں اور آفتاب میں
دل کی گرہ نہ وا ہوئی دردا شبِ وصال
گزری تمام بست و کشادِ نقاب میں
رنج عتاب زاہدِ مسکیں کو مفت ہے
یہاں اتقا میں سعی وہاں اجتناب میں
جاں میں نے نامہ بر قدم پر نثار کی
تھا پیش پا فتادہ یہ مضموں جواب میں
ہنس ہنس کے برق کو تو ذرا کیجئے بے قرار
رو رو کے ابر کو میں ڈبوتا ہوں آب میں
واعظ سے ڈر گئے کہ نہ شامل ہوئے ہم آج
ترتیبِ محفلِ مے و چنگ و رباب میں
ساقی ادِھر تو دیکھ کہ ہم دیر مست میں
کچھ مستئ نگہ بھی ملا دے شراب میں
داخل نہ دشمنوں میں نہ احباب میں شمار
مد فضول ہوں میں تمہارے حساب میں
کس کس کے جور اٹھائیں گے آگے کو دیکھئے
دشمن ہے چرخِ پیرِ زمانِ شباب میں
پیغام بر اشارۂ ابرو سے مرگیا
پھر جی اٹھے گا لب بھی ہلا دو جواب میں

اسماعیل میرٹھی

No comments:

Post a Comment