آخر یہ حسن چھپ نہ سکے گا نقاب میں
شرماؤ گے تمہیں نہ کرو ضد حجاب میں
پامال شوخیوں میں کرو تم زمیں کو
ڈالو فلک پہ زلزلہ میں اضطراب میں
روشن ہے آفتاب کی نسبت چراغ سے
دل کی گرہ نہ وا ہوئی دردا شبِ وصال
گزری تمام بست و کشادِ نقاب میں
رنج عتاب زاہدِ مسکیں کو مفت ہے
یہاں اتقا میں سعی وہاں اجتناب میں
جاں میں نے نامہ بر قدم پر نثار کی
تھا پیش پا فتادہ یہ مضموں جواب میں
ہنس ہنس کے برق کو تو ذرا کیجئے بے قرار
رو رو کے ابر کو میں ڈبوتا ہوں آب میں
واعظ سے ڈر گئے کہ نہ شامل ہوئے ہم آج
ترتیبِ محفلِ مے و چنگ و رباب میں
ساقی ادِھر تو دیکھ کہ ہم دیر مست میں
کچھ مستئ نگہ بھی ملا دے شراب میں
داخل نہ دشمنوں میں نہ احباب میں شمار
مد فضول ہوں میں تمہارے حساب میں
کس کس کے جور اٹھائیں گے آگے کو دیکھئے
دشمن ہے چرخِ پیرِ زمانِ شباب میں
پیغام بر اشارۂ ابرو سے مرگیا
پھر جی اٹھے گا لب بھی ہلا دو جواب میں
اسماعیل میرٹھی
No comments:
Post a Comment