Sunday, 16 August 2020

کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح

کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح
ساتھ طفلاں کے لگا پھرتا ہے، دیوانے کی طرح
یار کے پاؤں👣 پہ سر رکھ جی کو اپنے دیجئے
اس سے بہتر اور نہیں ہوتی ہے مر جانے کی طرح
کب پلاوے گا تو اے ساقی! مجھے جام شراب
جاں بلب ہوں آرزو میں مے کی پیمانے کی طرح
مست آتا ہے پئے مے 🍷 آج وہ قاتل مِرا
کچھ نظر آتی ہے مجھ کو اپنے جی جانے کی طرح
فصلِ گل آئی ہے تاباں گھر میں کیا بیٹھا ہے یوں
کر گریباں چاک جا صحرا میں دیوانے کی طرح

عبدالحئ تاباں

No comments:

Post a Comment