کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح
ساتھ طفلاں کے لگا پھرتا ہے، دیوانے کی طرح
یار کے پاؤں👣 پہ سر رکھ جی کو اپنے دیجئے
اس سے بہتر اور نہیں ہوتی ہے مر جانے کی طرح
کب پلاوے گا تو اے ساقی! مجھے جام شراب
مست آتا ہے پئے مے 🍷 آج وہ قاتل مِرا
کچھ نظر آتی ہے مجھ کو اپنے جی جانے کی طرح
فصلِ گل آئی ہے تاباں گھر میں کیا بیٹھا ہے یوں
کر گریباں چاک جا صحرا میں دیوانے کی طرح
عبدالحئ تاباں
No comments:
Post a Comment