✰حالات کیسے کیسے پہلو بدل رہے ہیں✰
پھولوں میں تُلنے والے کانٹوں میں پل رہے ہیں
کم پل صراط سے کچھ یہ بھی نہیں ہے زاہد
جن راستوں پہ ہم تم مدت سے چل رہے ہیں
اے کشتگانِ مشکل! ٹھہرو نہ ہو کے بد دل
عشرت کی داستاںیں دیتی ہیں زیب انہیں کو
جو لوگ جوۓ خوں میں بن کر قمر رہے ہیں
پورے کرے گی اپنے ارمان زندگی بھی
اب تک تو موت ہی کے ارماں نکل رہے ہیں
صدیوں سے چل رہی تھی ٹھکرا کے جس کو دنیا
اس خاک سے بھی اب تو سورج نکل رہے ہیں
ادیب سہارنپوری
No comments:
Post a Comment